Dil ki naseehat Mukalima by

نصیحت گر: کیا ہوا ? اداس کیوں ہو?

غافل دل : بس ایسے ہی !

نصیحت گر : ضرور کوئی بات ہے ۔ اب بتاؤ بھی ۔

غافل دل : گھر والوں سے بحث ہوگئی ۔

نصیحت گر : اچھا! کس بات پر.

غافل دل : میں نے فجر کی نماز نہیں پڑھی ۔

نصیحت گر : یہ تو غلط بات ہے ۔ تمہیں پڑھنی چاہیے تھی ۔

ہاں! پڑھنی چاہئے تھی ۔

اچھا یہ بتاؤ کیا تم نے باقی اوقات کی نمازیں ادا کیں؟

غافل دل : ہاں!

نصیحت گر : یہ تو اچھی بات ہے ۔ بس فجر کی عادت ڈال لو ۔ بحث مت کیا کرو جب کوئی اچھی بات بتائے تو اسے اپنانا چاہیۓ نہ کہ بحث کرنا ۔

غافل دل : لیکن میں ان سے صرف یہی پوچھتی ہوں کہ کیا باقی نمازیں فرض نہیں ?

نصیحت گر : ایسا سوال کیوں کرتی ہو? کیا وہ باقی نمازیں نہیں پڑھتے ?

غافل دل : ہاں !

نصیحت گر : پھر وہ تمہیں صرف فجر کی قضا پر کیوں ڈانٹتے ہیں؟

غافل دل : انہیں لگتا ہے کہ فجر بہت ضروری ہے ۔ اگر وہ نہیں پڑھی تو باقی نمازوں اور عبادتوں کا کوئی وجود نہیں سب بے کار ہے؟

نصیحت گر : یہ بالکل درست ہے کہ فجر بہت ضروری ہے اسی طرح باقی تمازیں بھی ۔ نماز وہ راستہ ہے جو اللہ تک جاتا ہے اور حشر میں سب سے پہلے نماز کا ہی سوال پوچھا جائے گا ۔ لیکن کبھی کسی نماز کو کسی اور نماز پر تقویت نہیں دی تمام نمازیں فرض ہیں اور ان کی قضا یا لاپرواہی پر سخت سزا ہے ۔تم مرضی سے نماز کو نظر انداز کروگی تو “ایسی غفلت انسان کے دل اور عمل دونوں میں کمزوری پیدا کر دیتی ہے ۔ ہاں اگر انجانے میں چھوٹ گئی یا کوئی اور وجہ ہے تو الله رحمن و رحیم ہے ۔ وہ معاف کر دیتا ہے ۔

غافل دل : آپ کی نظر میں کیا صرف نمازی جنت کا مستحق ہے ?

نصیحت گر : نہیں! ایسا بالکل نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو عالموں کے لئے الگ سے جہنم نہ بنائی جاتی ہے ۔ اللہ کو کب کونسی ادا پسند آ جائے یہ کون جانتا ہے ۔

غافل دل : کیا ہمیں کسی سے اس کی عبادات کا پوچھنے کا حق ہے؟

نصیحت گر : میرے نظریے میں نہیں۔ یہ بہت نجی بات ہے جو صرف الله اور اس کے بندے کے درمیان ہوتی ہے اور مجھے لگتا ہے کسی اور کا اس میں دخل اندازی کرنا غلط لگتا ہے ۔

لیکن ایک خیر خواہ ہونے کے ناطے تمہیں یہ صلاح دونگا کہ کوئی بھی نماز قضا مت کرنا ۔ دل ہو یا نہ نو ۔ صحت مند ہو یا نہ ہو ۔ خوشی ہو یا غم ۔ اور اگر کوئی تمہیں نماز کی طرف بلا رہا ہے اسکا احترام کرنا کیوں نکہ وہ تمہیں جنت میں دیکھنا چاہتا ہے اور کبھی اس سے اس کے اعمالوں کے بارے میں الٹا سوال مت کرنا ۔ یہ تمہارے کردار پر کمی پیدا کر دے گا اور تمہیں ایسا انسان بنائے گا جو نکتہ چینی کرتا ہے ۔ اور تم بھی لوگوں کو نماز اور باقی عبادات کی نصیحت کرو مگر یاد رکھو “نصیحت وہی ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرے، نہ کہ اس کے دل سے دور۔”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top